پاکستانی حجاج کرام کیلئے خوشخبری مکہ مدینہ کا سفر پابندیاں ختم
پاکستانی مذہبی امور کے وزیر کے مطابق حجاج کا پرانا کوٹا بحال کر دیا گیا ہے اور 65 سال کی بالائی حد بھی ختم کر دی گئی ہے
مین ذاتی تجربے کی بات کر رہا ہوں کہ میں آج تک جس شخص سے ملا ہوں جس شخص میں کسی بھی حد تک مذہب سے لگاؤ ہے تو ان کی اولین ترجیح حج اور زندگی میں عمرہ کرنا شامل ہے اور پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو مذہبی فریضے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب جانے والوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہتے ہیں لیکن 20 20 کے اوائل میں
کرونا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
زندگی ایک بار رک گئی تمام ممالک نے بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اپنی سرحدیں باہر سے آئے ہوئے لوگوں کے بند کر دیں
پریشانی اور مشکل آرہے مشکلات میں خدا کی یاد بہت آتی ہے اس صدی کے کرونا وائرس نے ایسا خواب دکھایا کہ انسان انسان کے نزدیک ہونے سے ڈر لگنے لگا اور ماہرین صحت نے بھی یہی کہا کہ بیماری سے بچنا ہے تو آپس میں فاصلہ
رکھیں
کرونا وائرس کو روکنے سے بچانے کے لیے کی جانے والی ایک طرف زیادہ احتیاطی تدابیر ہیں کی وجہ سے سعودی حکومت حج اور عمرہ کی ادائیگی بھی کم کر دیتی اور بیس میں جب کرونا وائرس کا بہت زیادہ دور تک عروج پر تھا تو سعودی حکومت صرف ایک ہزار مقامی شہریوں کو تمام تر ضروریات کے ساتھ حج کرنے کی آزادی کے ساتھ اجازت دی تھی
بعد میں جب وائرس کا زور کچھ کم ہوا
اور کرونا سے بچاؤ کی ویکسین فیشن بھی بنالی گئی
تو سعودی حکومت کی جانب سے ویکسینیشن زیادہ افراد کو ہونے کی محدود جازت دی گئی
نواب پاکستان کے وزیر برائے مذہبی امور مفتی عبدالشکور نے جدہ میں چار روزہ عالمی حج کانفرنس میں شرکت کی اور ان کی وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے وزیر مذہبی امور کو سالانہ حجم عہدے کا بل موصول ہوگا جس قدر پاکستانی حجاج کا پرانا کوٹا 179 210 کو بحال کر دیا گیا ہے
اور 65 سال کی عمر کی حد کو بھی ختم کیا گیا ہے
وفاقی وزیر مذہبی امور کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد رواں سال کے لیے حج پالیسی کا اعلان کیا جائے گا اور مجھے اندازہ ہے کہ آئندہ مہینے سے حج درخواستوں کی وصولی کا عمل شروع کیا جائے گا وزیر کے بیان کے مطابق سعودی حکام سے درخواست کی ہے کہ لازمی حاجی اخراجات کو مزید کیا جاتا کہ پاکستانی عازمین حج پر کم سے کم وزیر حج و عمرہ نے مثبت کوشش کی اور یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ اپنی طرف سے بھرپور کوشش کریں گے
کرونا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
زندگی ایک بار رک گئی تمام ممالک نے بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اپنی سرحدیں باہر سے آئے ہوئے لوگوں کے بند کر دیں
پریشانی اور مشکل آرہے مشکلات میں خدا کی یاد بہت آتی ہے اس صدی کے کرونا وائرس نے ایسا خواب دکھایا کہ انسان انسان کے نزدیک ہونے سے ڈر لگنے لگا اور ماہرین صحت نے بھی یہی کہا کہ بیماری سے بچنا ہے تو آپس میں فاصلہ
رکھیں
کرونا وائرس کو روکنے سے بچانے کے لیے کی جانے والی ایک طرف زیادہ احتیاطی تدابیر ہیں کی وجہ سے سعودی حکومت حج اور عمرہ کی ادائیگی بھی کم کر دیتی اور بیس میں جب کرونا وائرس کا بہت زیادہ دور تک عروج پر تھا تو سعودی حکومت صرف ایک ہزار مقامی شہریوں کو تمام تر ضروریات کے ساتھ حج کرنے کی آزادی کے ساتھ اجازت دی تھی
بعد میں جب وائرس کا زور کچھ کم ہوا
اور کرونا سے بچاؤ کی ویکسین فیشن بھی بنالی گئی
تو سعودی حکومت کی جانب سے ویکسینیشن زیادہ افراد کو ہونے کی محدود جازت دی گئی
پچھلے سال اسی عذاب پاکستانی سعودی عرب کی طرف سے دیئے گئے آج کوئٹہ سے مستفید ہوئے
نواب پاکستان کے وزیر برائے مذہبی امور مفتی عبدالشکور نے جدہ میں چار روزہ عالمی حج کانفرنس میں شرکت کی اور ان کی وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے وزیر مذہبی امور کو سالانہ حجم عہدے کا بل موصول ہوگا جس قدر پاکستانی حجاج کا پرانا کوٹا 179 210 کو بحال کر دیا گیا ہے
اور 65 سال کی عمر کی حد کو بھی ختم کیا گیا ہے
وفاقی وزیر مذہبی امور کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد رواں سال کے لیے حج پالیسی کا اعلان کیا جائے گا اور مجھے اندازہ ہے کہ آئندہ مہینے سے حج درخواستوں کی وصولی کا عمل شروع کیا جائے گا وزیر کے بیان کے مطابق سعودی حکام سے درخواست کی ہے کہ لازمی حاجی اخراجات کو مزید کیا جاتا کہ پاکستانی عازمین حج پر کم سے کم وزیر حج و عمرہ نے مثبت کوشش کی اور یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ اپنی طرف سے بھرپور کوشش کریں گے

0 Comments