تاریخ سلطنت عثمانیہ
جس نے زمانے کا دھارا بدل دیا
![]() |
| ayasophia/ Image credit by Sajid Nazeer |
عثمانی ترک جن کا یہ نام اسی قوم یا نسل کی طرف نہیں
بلکہ ان کے پہلے حکمران عثمان خان کی طرف سے منسوب ہے
عثمانی ایشیائے کوچک میں پہلے خانہ بدوشی کی طرح داخل ہوئے
پھر ایک ایسی سلطنت کی بنیاد ڈالی جو ڈیڑھ سو برس کے اندر اندر دنیا کی طاقتور ترین ریاست بن گئی
تین سو برس گزرنے کے بعد عثمانی سلطنت دنیا کی عظیم الشان اور بہت بڑی سلطنت بن گئی
سلطنت عثمانیہ کا عروج کا دور مشرق میں سلطان سلیم
اور مغرب میں
سلیمان اعظم قانونی کی فتوحات پر ختم ہوتا ہے
اس زمانے میں عثمانی ترک مرکز یورپین طاقت تھے
جبکہ سلطنت عثمانیہ کی وسعت
ایشیا یورپ اور افریقہ کے وسیع اور تین براعظموں تک پھیلی ہوئی تھی
ہنگری ان کے زیر نگیں تھا
اور آسٹریا کی دیواروں تک سلطنت عثمانیہ کی فوجی پہنچ چکی تھی
سارے یورپ پر سلطنت عثمانیہ کی ہیبت چھائی ہوئی تھی
سلطنت عثمانیہ کی سب سے بڑی کامیابی قسطنطنیہ کا فتح کرنا تھا جسے سلطان محمد اول فتح کیا
سلطنت عثمانیہ کی کمزوریوں کا دور
سلیمان اعظم کالونی کے دور سے ہی شروع ہوگیا
سلیمان اعظم کالونی کی موت کے بعد ان کے کمزوریوں کے اسباب مزید شدید ہوتے گئے
سلیمان اعظم کے بعد جتنے بھی سلاطین پایا تخت پر بیٹھے ان میں چند ایک کے سوا کسی نے بھی سلطنت کو چلانے کی استطاعت نہ تھی
جس طرح استحصال سلطنت عثمانیہ نے عروج حاصل کیا تھا
اسی طرح اس طرح کی کے ساتھ سلطنت عثمانیہ اپنے زوال کو پہنچ رہی تھی
سلطنت عثمانیہ کے زوال کی مدت بھی اس کے عروج کے بت کی طرح تین سو سال ہے
ان میں آخری ڈیڑھ سو برس میں سلطنت عثمانیہ اپنے سے کہیں بڑے دشمنوں کا مقابلہ کرتی رہیں
اندرونی کمزوریوں کے بعض اور پے در پے شکستوں کے باعث انیس سو بائیس میں اس عظیم الشان سلطنت کا خاتمہ ہوگیا
اعلان اسلامی ملک کیا نے اپنی ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جن کی وجہ سے سلطنت عثمانیہ کا زوال ہوا تھا
اس کوشش میں کامیابی حال ہی میں دنیا کے سامنے عظیم معرکے سے کم نہیں ہے
ترکش قوم میں گزشتہ سلطنت کے کھنڈر پر ایک عظیم الشان ملک قائم کر لیا
یوں تو ہر قوم کے عزم و استقلال کی ایک زندہ مثال ہے
یورپ کا مرد بیمار مرنے کے بعد نہ صرف جی اٹھا
بلکہ اس کے اندر سے ایک اور شباب کی تمام طاقتیں جاگ
اور بیسویں صدی کی کو تو کو بھی اس کا اچھی طرح ہوگیا
عیسائی
اٹھی

0 Comments