نیوز ڈیسک
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کا معافی نامہ قبول کر لیا اور توہین عدالت کا نوٹس خارج کر دیا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ عمران خان کے رویے سےمطمئن ہیں اور ان کی معافی کو قبول کیا جاتا ہے
ادھر لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کے پاسپورٹ کی واپسی کا حکم دیا ہے
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتہ احتساب عدالت نے مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کردیا تھا
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتہ احتساب عدالت نے مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کردیا تھا
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے غیر مشروط معافی تو نہیں مانگی
مقدمے کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے جو بیان حلفی عدالت میں جمع کروایا ہے اس میں انہوں نے غیر مشروط معافی نہیں مانگی
توہین عدالت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے موجود ہیں
اس موقع پر انہوں نے پچھلے دور کے مسلم لیگ نواز کے رہنما و طلال چوہدری اور دانیال عزیز کے مقدمات کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ فیصلوں پر عمل در آمد کی پابند ہے
اس موقع پر جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا ان فیصلوں کو مانتے ہیں
تو کیا آپ کے رویے سے لگ رہا ہے کہ معافی مانگ لی ہے
عامر رحمان نے کہا کہ وہ اس موقع پر مزید کچھ اہم دستاویزات دینا چاہتے ہیں عدالت نے اس موقع پر کہا کہ آپ دستاویزات جمع کروا دیں
چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا ذکر ہم اپنے تفصیلی فیصلے میں کریں گے
اگر عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں بتا رہا ہوں کے میں انکی پلاننگ کے حساب سے اپنی تیاری مکمل کر رہا ہوں
پھر اچانک کال دوں گا

0 Comments