پاکستان آبزرور بلاگ اسلام آباد ڈیسک
صادق آباد کا سفاک جانو اندھڑ گینگ جس نے پورا پاکستان ہلا کر رکھ دیا شہداء کو انصاف نہ مل سکا
![]() |
| شہید ظہیر عباس کی فائل فوٹو |
یہ ایک سال پہلے دوپہر کا وقت تھا
جب پانچ موٹرسائیکلوں پر درجن بھر افراد صادق آباد کے نواحی علاقہ ماہی چوک کے پٹرول پمپ پر آکر رکے جنہوں نے کندھوں پر کلاشنکوفیں لٹکا رکھی تھیں ڈاکوؤں نے دن دہاڑے نو افراد کو شہید کر ڈالایہ صادق آباد کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھاجانو اندھڑ اور اس کے گینگ نےشک کی بنیاد پراور حسد کی وجہ سے اعلی تعلیم یافتہ اور بزنس مین لوگوں کو شہید کر ڈالاان شہدا میں ایک ہی خاندان کے8 افراد شامل تھے
![]() |
| سانحہ ماہی چوک کے دل خراش مناظر |
پیٹرول اسٹیشن پر پیش آنے والے اس ظلم ناک واقعے کے مناظر وہاں کے سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہو گیا تھا بعد میں جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جس انداز سے شہید ہونے والےافراد نے ڈاکو کو یقین دلانے کی کوشش کیکہ ان کا ان کے معاملات سےکوئی لینا دینا نہیں ان ظالموں کے سر پر خون سوار تھا نو بے گناہ لوگوں کو شہید کر ڈالا
![]() |
| شہید ظہیر عباس کی اپنے کزن انجنیئر اعجاز احمد کے ساتھا ایک یادگار تصویر |
حیرت کی بات ہے کہ اس پیٹرول پمپ سے سو میٹرسے بھی کم فاصلے پر پولیس کی چوکی تھی تاہم پولیس ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے یا روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی مقامی لوگوں کے مطابق اس علاقے میں گزشتہ کئی سالوں سے جانو اندھڑ گینگ متحرک ہے جو کہ بہت ہی خونی وارداتیں کر چکا ہے
یاد رہے کہ اس واقعہ کی رپورٹ وقوعہ کے دو روز بعدپولیس نے مجاہد امیر کی مدعیت میں تھانہ کوٹ سبزل میں درج کی تھی شہدا میں مجاہد امیر کے بھائی بھی شامل تھے یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند دنوں کے بعد ہی مجاہد امیر مدعیت سے دستبردار ہوگئے تھے ڈاکو کا اتنا خوف
تھا
انہیں مجبور ہو کر پیچھے ہٹنا پڑا اس علاقے میں عام لوگ ڈاکو کا نام لینے سے بھی ڈرتے ہیں اوہ علاقہ خاص قسم کا نو گو ایریا ہے
مقامی افراد نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ اکثر پولیس کے لوگ ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اس لیے اندھڑ گینگ کو ایڈوانس میں خبریں مل جاتی ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو پاتی کچھ دن پہلے چوک چدھڑ میں پولیس مقابلہ میں
جانو اندھڑ گینگ کے اہم رکن بابا ڈکیت اور بھوری شر اور سلتوشر مارے گئے
یاد رہے کہ
اندھڑ گینگ نے مقامی ایم پی اے ممتاز چانگ کو بھی قتل کرنے کی دھمکیاں دی تھیں
بعد میں ممتاز چانگ نے میڈیا میں بات کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا گینگ کو اہم مقامی سیاسی شخصیاتکی سرپرستی حاصل ہے
صادق آباد کے تمام علاقہ نوگو ایریا بن گئے ایسے علاقے میں جو شخص ڈاکوؤں کے خلاف بات کرتا ہے یا تو مار دیا جاتا ہے یا اغوا کر لیا جاتا
پولیس جب بھی ان کے خلاف ج آپریشن کرتی ہے تو اپریشن ہر بار ناکام ہو جاتا ہے صادق آباد کے عوام آئے روز کی اغوا کاری اور ڈکیتتی سے تنگ آگئے ہیں
لوگ دن کی روشنی میں بھی گھروں سے نکلنے سے ڈرتے ہیں یہ گینگ اب ہر طرح کے خوف سے بے نیاز ہو چکا ہے صادق آباد کا امن مذاق بن کر رہ گیا ہے ڈاکو جب چاہیں جہاں چاہیں جس کو قتل کر ڈالیں
وقوعہ کے فورا بعد اعلی حکام نے بڑے بڑے وعدے کیے اورورثا کو تسلی دی گئی
لیکن پاکستان میں تو اس کا نظام چلتا ہے جس کے پاس ڈنڈا ہے پولیس ایک بھی ملزم گرفتار کرنے میں ناکام رہی
![]() |
| اندھڑ گینگ |
اندھڑ گینگ الٹا مزید خون کا پیاسا اور باقی ورثاء کی جان کا دشمن ہو گیا ہے اور انہیں بھی قتل کرنا چاہتا ہے دکھ یہ ہے کہ ماؤں سے ان کے لخت جگر چھین لئے گئے بہنوں سے بھائی چھین لے گئے معصوم بچوں سے ان کے باپ کا سایہ دوستوں سے دوستی چین لے گئے ایک سال گزرنےکے باوجود بھی ورثاء کو انصاف نہ مل سکا اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی ایسی فورس نہیں ہے جو اس گینگ کو ختم کر سکے
یہ کتنی اہم بات ہے
کے ظہیر عباس ایک پڑھا لکھا ایم بی اے ڈگری ہولڈر نوجوان اور بزنس مین تھا اور اس علاقے کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا نوجوان بھی
ان کے والد صاحب حاجی غلام نبی بڑے بھائی رئیس پیر بخش ان کے چھوٹے بھائی عبدالررزاق کے بھتیجے اور کزن کو بھی شہید کیا گیا
اس علاقے میں ان کا خاندان نیک نامی میں مشہور تھا
تمام علاقہ ابھی تک بھی اس واقعے کی وجہ سے دکھ تکلیف اور سوگ میں ہیں اور عوام حکومت پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں
اس ظلمت کے شکار خاندان میں اب اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ مزید کوئی دکھ کا بوجھ اٹھا سکے
نو جنازے ایک ہی دن میں ایک گھر سے اٹھنا کوئی مذاق نہیں ہے
میرا تو اپنا کلیجہ پھٹ گیا
آنے والے دنوں میں پنجاب حکومت کو پھرتی دکھانی ہوگی شہدا کے لواحقین کو انصاف کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت کو بھی ضرور یقینی بنانا ہوگا
علاقہ کے لوگوں کے تحفظ کے لیے امن ضروری ہے
اور امن اسی صورت میں قائم کیا جا سکتا ہے جب اس سفاک گینگ کا خاتمہ کردیا جائے قانون کو بہر صورت اپنی رٹ قائم کرنا ہوگی
ورنہ ایسے واقعات روز ہوں گے اور بڑھتے بھی جائیں گے
اور تو اور اس اندھڑ گینگ نے ڈی پی او کو بھی دھمکی دے ڈالی ہم کب تک ایسے نوجوان قربان کرتے رہیں گے
ہمیں اس برسی کے موقع پر اس سانحہ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی فورا
اور با عمل ایکشن لینا چاہیے
بلاگر کا آپکی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں
ساجد نذیر فری لانس رائیٹر بلاگر اور ڈیجیٹل مارکیٹر ہیں
آپ اپنی آرا ہمیں ای میل کر سکتے ہیں
.png)
.png)

.png)
0 Comments