Header Ads Widget

سانحہ ماہی چوک کوایک سال گزر گیا لیکن شہداء کے ورثا کو انصاف نہ مل سکا

 پاکستان آبزرور بلاگ اسلام آباد ڈیسک 

صادق آباد کا سفاک جانو اندھڑ   گینگ جس نے  پورا پاکستان ہلا کر رکھ دیا  شہداء کو انصاف نہ مل سکا

سانحہ ماہی چوک کوایک سال  گزر گیا لیکن   شہداء کے ورثا  کو انصاف نہ مل سکا
شہید ظہیر عباس کی فائل فوٹو 


یہ ایک سال پہلے دوپہر کا وقت تھا
جب پانچ موٹرسائیکلوں پر درجن بھر افراد صادق آباد کے نواحی علاقہ ماہی چوک کے پٹرول پمپ پر آکر رکے جنہوں نے کندھوں پر کلاشنکوفیں لٹکا رکھی تھیں ڈاکوؤں نے دن دہاڑے نو افراد کو شہید کر ڈالایہ صادق آباد کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھاجانو اندھڑ اور اس کے گینگ نےشک کی بنیاد پراور حسد کی وجہ سے اعلی تعلیم یافتہ اور بزنس مین لوگوں کو شہید کر ڈالاان شہدا میں   ایک ہی خاندان کے8 افراد شامل تھے

سانحہ ماہی چوک کوایک سال  گزر گیا لیکن   شہداء کے ورثا  کو انصاف نہ مل سکا
سانحہ ماہی چوک کے دل خراش مناظر 



پیٹرول اسٹیشن پر پیش آنے والے اس ظلم ناک واقعے کے مناظر وہاں کے  سی ٹی وی کیمرے میں محفوظ ہو گیا تھا بعد میں جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جس انداز سے شہید ہونے والےافراد نے ڈاکو کو یقین دلانے کی کوشش کیکہ ان کا ان کے معاملات سےکوئی لینا دینا نہیں ان ظالموں  کے سر پر خون سوار تھا نو  بے گناہ لوگوں کو شہید کر ڈالا

سانحہ ماہی چوک کوایک سال  گزر گیا لیکن   شہداء کے ورثا  کو انصاف نہ مل سکا
شہید ظہیر عباس کی اپنے کزن انجنیئر  اعجاز احمد کے ساتھا ایک یادگار تصویر 



 حیرت کی بات ہے کہ اس پیٹرول پمپ سے سو میٹرسے بھی کم فاصلے پر پولیس کی چوکی تھی تاہم پولیس ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے یا روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی مقامی لوگوں کے مطابق اس  علاقے میں گزشتہ کئی سالوں سے جانو اندھڑ   گینگ متحرک ہے جو کہ بہت ہی خونی وارداتیں کر چکا ہے

یاد رہے کہ اس واقعہ کی رپورٹ وقوعہ  کے دو روز بعدپولیس نے مجاہد امیر کی مدعیت میں تھانہ کوٹ سبزل میں درج کی تھی شہدا میں   مجاہد امیر  کے بھائی بھی شامل تھے یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند دنوں کے بعد ہی مجاہد امیر مدعیت سے دستبردار ہوگئے تھے ڈاکو کا اتنا خوف
 تھا
انہیں مجبور ہو کر پیچھے ہٹنا پڑا اس علاقے میں عام لوگ ڈاکو کا نام لینے سے بھی ڈرتے ہیں اوہ علاقہ خاص قسم کا نو گو ایریا ہے
مقامی افراد نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ اکثر پولیس کے لوگ ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اس لیے  اندھڑ   گینگ کو ایڈوانس میں خبریں مل جاتی ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو پاتی کچھ دن پہلے چوک چدھڑ میں پولیس مقابلہ میں
جانو اندھڑ گینگ   کے اہم رکن بابا ڈکیت اور بھوری شر اور سلتوشر مارے گئے
یاد رہے کہ
 اندھڑ گینگ نے مقامی ایم پی اے ممتاز  چانگ  کو بھی قتل کرنے کی دھمکیاں دی تھیں
بعد میں ممتاز چانگ نے میڈیا میں بات کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا گینگ کو   اہم  مقامی سیاسی  شخصیاتکی  سرپرستی حاصل ہے  

صادق آباد کے تمام علاقہ نوگو ایریا بن گئے ایسے علاقے میں جو شخص ڈاکوؤں کے خلاف بات کرتا ہے یا تو مار دیا جاتا ہے یا اغوا کر  لیا  جاتا
پولیس  جب بھی ان کے خلاف ج آپریشن کرتی ہے تو اپریشن ہر بار ناکام ہو جاتا ہے صادق آباد کے عوام  آئے روز    کی اغوا کاری اور ڈکیتتی   سے تنگ آگئے ہیں
لوگ دن کی روشنی میں بھی  گھروں  سے نکلنے سے ڈرتے ہیں یہ  گینگ  اب ہر طرح کے خوف سے بے نیاز ہو چکا ہے صادق آباد کا امن مذاق بن کر رہ گیا ہے ڈاکو جب چاہیں جہاں چاہیں جس کو قتل کر ڈالیں

وقوعہ  کے فورا بعد اعلی حکام نے  بڑے بڑے وعدے کیے اورورثا   کو تسلی دی گئی

لیکن پاکستان میں تو اس کا نظام چلتا ہے جس کے پاس ڈنڈا ہے پولیس ایک بھی  ملزم گرفتار کرنے میں ناکام رہی

سانحہ ماہی چوک کوایک سال  گزر گیا لیکن   شہداء کے ورثا  کو انصاف نہ مل سکا
اندھڑ گینگ



اندھڑ گینگ الٹا مزید خون کا پیاسا  اور   باقی ورثاء کی جان کا دشمن ہو گیا ہے اور انہیں بھی قتل کرنا چاہتا ہے دکھ یہ ہے کہ ماؤں سے ان کے لخت جگر چھین لئے گئے بہنوں سے بھائی چھین لے گئے معصوم بچوں سے ان کے باپ کا سایہ دوستوں سے دوستی چین لے گئے ایک سال گزرنےکے باوجود بھی ورثاء کو انصاف نہ مل سکا اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی ایسی فورس نہیں ہے جو اس گینگ کو   ختم کر سکے
یہ کتنی اہم بات ہے 
کے ظہیر عباس ایک پڑھا لکھا ایم بی اے ڈگری ہولڈر نوجوان اور بزنس مین تھا اور اس علاقے کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا نوجوان بھی 
ان کے والد صاحب حاجی غلام نبی بڑے بھائی رئیس پیر بخش ان کے چھوٹے بھائی عبدالررزاق  کے بھتیجے اور کزن کو بھی شہید کیا گیا
اس علاقے میں ان کا خاندان نیک نامی  میں مشہور تھا

تمام علاقہ ابھی تک بھی اس واقعے کی وجہ سے دکھ تکلیف اور سوگ میں ہیں اور عوام حکومت پر   انگلیاں اٹھا رہے ہیں
اس  ظلمت کے شکار خاندان میں اب   اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ مزید کوئی دکھ کا بوجھ اٹھا سکے
نو جنازے ایک ہی دن میں ایک گھر سے اٹھنا  کوئی مذاق نہیں ہے

میرا تو اپنا کلیجہ پھٹ گیا

آنے والے دنوں میں پنجاب حکومت کو پھرتی  دکھانی ہوگی شہدا کے لواحقین کو انصاف کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت کو بھی ضرور یقینی بنانا ہوگا
علاقہ کے لوگوں کے تحفظ کے لیے امن ضروری ہے

اور امن  اسی صورت میں قائم کیا جا سکتا ہے جب اس سفاک گینگ کا خاتمہ کردیا جائے قانون کو بہر صورت اپنی رٹ قائم کرنا ہوگی
ورنہ ایسے واقعات روز ہوں گے اور بڑھتے بھی جائیں گے

اور تو اور اس  اندھڑ   گینگ  نے ڈی پی او کو بھی دھمکی دے ڈالی ہم کب تک ایسے نوجوان  قربان کرتے رہیں گے
ہمیں اس برسی کے موقع پر اس سانحہ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی فورا
اور با عمل ایکشن لینا چاہیے


بلاگر کا آپکی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں 
ساجد نذیر فری لانس رائیٹر  بلاگر  اور ڈیجیٹل مارکیٹر ہیں 
آپ اپنی آرا ہمیں ای میل کر سکتے ہیں 

Post a Comment

0 Comments