Header Ads Widget

ملک کی مخدوش صورتحال عمران خان اسٹیبلشمنٹ اور حکمران ٹولہ

  ملک کی مخدوش صورتحال عمران خان اسٹیبلشمنٹ اور حکمران  ٹولہ               [ بلاگ ]

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد جو حالات پیدا ہوے ہیں پورے ملک کی سیاست اور سلامتی جھٹکوں اور غیر یقینی سورتحال سے وابستہ ہے ایک جانب اسٹیبلشمنٹ اور پی ڈی ایم حکمران اتحاد تقریبن یہ طے کر چکا ہے کہ اب کی بار شریف زرداری مولانا  سرکار ادھر عمران خان ہیں کہ الیکشن کے سوا کسی بات پہ راضی نہیں اب تک کے حالات اور آثار یہ ظاہر کرتے ہیں کے اگلے سال ہی الیکشن ہونگے سب اپنی اپنی ضد پر  ڈٹے ہوے ہیں اسٹیبلشمنٹ کسی طور نہیں چاہے گی کے پی ڈی ایم سے دوبارہ تعلقات پرانی جگہ  پر چلے جائیں پی ڈی ایم کی اپنی ساکھ کا سوال ہے رہی سہی کسر عمران خان کے بیانیہ نے پوری کر دی ہے عوام بھی خاصے نالاں ہیں اگر حالات اسی طرح کچھ ہفتے اور رهتے ہیں تو عمران خان مزید خطر ناک ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ در  پردہ واقعات اور اہم باتوں رازوں سے پردہ ہٹا سکتے ہیں جس سے یہ بات بلکل طے ہے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ سے سیدھا ٹکراو ہوگا اور شہباز شریف کی یہی منشا اور دلی تمنا ہے کہ کسی طرح عمران خان ہمارے بچہے جال میں آ جائے عمران خان اگر جیل جاتا ہے تو حالات سنگین ہوجائیں گے عوام کے سامنے عمران خان نے جو بیانیہ رکھا ہے وہ مقبول بھی ہوا ہے اور عوام نے اسے تسلیم بھی کر لیا ہے اب سوشل میڈیا کا زمانہ ہے عام خبر تو عوام تک پوونچتی ہی ہے اب خاص اور سیکریٹس باتیں بھی عوام تک بہت تیزی سے پونچ رہی ہیں اگر بات عمران خان کی حد تک رہتی تو اور بات تھی سازش کی جو بات عمران خان کر رہے ہیں اب اسے انٹرنیشنل میڈیا بھی تسلیم کر رہا ہے یہ تمام خبریں عوام اور عام  آدمی تک آسانی سے پنچ رہی ہیں سازش اور مداخلت جو کچھ بھی  ہو عمران خان نے بہر حال اسکو عوام سے تسلیم کروا لیا ہے بچے بوڑھے جوان سب اس سازش کی بات کرتے نظر آتے ہیں کسی بھی تقریب میں جائیں کسی ریسٹورینٹ میں جائیں یا کسی افطار پڑتی میں  سب لوگ عمران خان کی تائید کرتے نظر آ رہے ہیں لوگ مہنگائی بھول گئے ہیں اپنی مشکلیں بھول گئے ہیں نوجوانو پر تو الگ ہی جذبہ اور جوش چڑھا ہے اور وہ یہی کہنا چاہ رہے ہیں کہ کچھ بھی ہو ووٹ پی ٹی آئ کا ہی ہے  ادھر اپوزیشن بھی کمندیں کسی بیٹھی ہے اپر سے اسٹیبلشمنٹ کا آسرا بھی جانے یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا  حکومت کو بہتی ہی منہگائی سے بھی نمٹنا ہے اسے انٹرنیشنل معاملات بھی سنبھالنے ہیں معیشت بھی سنبھالنی ہے الیکشن ترامیم بھی کرنی ہیں اتحادیوں کے ناز نخرے بھی اٹھانے ہیں اسٹیبلشمنٹ کی بھی جی حضوری کرنی ہیں یہ وہی پرانے والے نائی ہیں بس دکان نئی ہے انہوں نے کسی کو نہیں بخشنا سب کی گنج بھی کریں گے مگر استرے کی جگہ شیونگ  مشین سے پتا تو بعد میں چلے گا جب کسی کی سر پی ایک بھی بال نہ ہوگا 


ساجد نذیر بلاگر  اور فری لانس رائیٹر ہیں 


بلاگر کا آپ کی راۓ سے متفق ہونا ضروری نہیں 


Post a Comment

0 Comments